شیعہ اور اماموں کے متعلق شیعوں کا عقیدہ

جو خود ساختہ معیارات کی وجہ سے ائمہ کی تعلیمات، ان کی سیرت اور کردار سے شیعوں کے دوری کا باعث بنے رہے ۔ ائمہ ؑ سے وابستگی اور تعلق کے غلط معیار اور اصول کا نتیجہ ہے کٓہ آج دینی دستورات کی پابندی پر لوگ بعض رسومات کی ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ائمہ ؑ کی طرف سے نماز وغیرہ کی پابندی کی خصوصی وصیت اور سفارش کے باوجود زیادہ تر لوگ ائمہ ؑ سے وابستگی کا معنی ان کے نام پر مجالس اور محافل منعقد کرنے اور ان میں شرکت میں ہی خلاصہ کیا جاتا ہے ۔

شیعہ مخالفین شیعوں پر مساجد کو غیر آباد کرنے اور عزا خانوں کو آباد کرنے کا الزام لگاتے ہیں ، بے نمازی اور قرآن کو اہمیت نہ دینے والے گروہ کے طور پر پہچانتے ہیں ۔

ہر دور کی طرح آج بھی ائمہ اہل بیتؑ سے وابستگی کا تقاضا ہے کہ دینی پیشواوں کی طرف سے بتائے ہوئے شیعہ ہونے کے اصولوں کو بیان کیا جائے اور امامت کے مسئلے میں شکوک و شبہات اور انحرافات کا سد باب کیا جائے ۔

ائمہ اہل بیت ؑ دینی پیشوا اور دین کے ہادی ہیں :

ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے ائمہ دین کے ہادی اور دین کے پیشوا تھے ، دین شناسی اور دینداری میں سب سے آگے تھے ۔ عبادت پروردگار میں کوشاں اور عبودیت کے کامل ترین مقام پر فائز تھے ۔ دین کی حفاظت اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنا اس سب کی مشترکہ سیرت تھی ۔ انہوں نے اپنی بابرکت زندگی لوگوں کو دین حق کے پیرو بنانے اور گمراہی اور انحرافات سے انہیں دور رکھنے میں صرف کی ۔ہمیشہ بے دین عناصر اور دین کے نام پر لوگوں کے احساسات سے کھیلنے والوں کے آگے سینہ سپر بن کر کھڑے رہے اور انہیں لوگوں کے غیض و غضب اور اذیت و آزار کا شکار رہے اور ان کی زندگی کے چراغ انہیں عناصر کے ہاتھوں یکے بعد دیگری گھل ہوتے گئے ۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے معین رسول اللہ ﷺ کے جانشین اور حضور کے بعد دینی پیشوا اور ہادی ائمہ اہل بیت ؑ ہیں اور ان کی تعداد بارہ ہے ان میں سے پہلا امام علیؑ اور آخری امام مہدیؑ ہیں ۔ ان کی تعلیمات اور سیرت اسلامی تعلیمات کا آئنہ اور سرچشمہ ہے ۔ ان کی اطاعت اور پیروی گمراہی سے نجات کا ذریعہ ہے اور اس سلسلے میں ہمارے پاس قرآن و سنت کے علاوہ عقلی دلائل بھی موجود ہیں ۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ ائمہ اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کی ولایت اور جانشینی پر عقیدہ ایمان کا حصہ اور مئومن ہونے کی پہچان ہے ۔ ہم ائمہ اہل بیت ؑ کو ہی حق پر جانتے ہیں اور جو بھی ان کے مقابلے میں آئے انہیں حق پر نہیں سمجھتے ۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ ائمہ اہل بیت ؑ سے وابستگی اور اہل ولایت ہونے کا مطلب ان کی تعلیمات اور سیرت پر عمل پیرو ہونا ہے اور کیونکہ ائمہ اہل بیت ؑ دینی پیشوا اور دین کے ہادی ہیں ۔لہذا دینی دستورات کی پابندی کے بغیر کوئی ان کے پیرو اور مولائی نہیں بن سکتا ۔

ائمہ اہل بیت ؑ بشر ہیں لیکن بشر ما فوق ہیں ۔
قرآن کی رو سے نبی ایک بشر اور کامل انسان ہے.جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:قُلْ إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحى‏ إِلَيَّ.{فصلت.6} کہدیجئے: میں بھی تم جیسا آدمی ہوں، میری طرف وحی ہوتی ہے۔لہذا نبی غیر بشری کوئی مخلوق نہیں ہے۔ نبی کے لئے بھی ماں اور باپ اور پیدائش ہے ۔ مثلا ہمارے پیارے نبیﷺ کا والد جناب عبد اللہ تھے اور آپ جناب آمنہ کے بطن سے بارہ یا سترہ ربیع اول کو پیدا ہوئے ۔ تمام ائمہ اطہارؑ بھی ایسے ہی ہیں ۔ ائمہ ؑبھی ماں ،باپ رکھنا ، شادی بیاہ، بطن میں ان کی نشونما اور پیدائش وغیرہ کے مسلئے میں بشری ہی ہیں ۔مثلا جناب امیر المنین امام علیؑ جناب ابوطالبؑ کے فرزند ہیں اور جناب فاطمہ بنت اسدؑ کے بطن سے تیرہ رجب کو آپ کی ولادت ہوئی اسی لئے ائمہ کی تعلیمات میں “مولود اور ولادت[4]” کا لفظ استعمال ہوا ہے اور خاص کر امام علیؑ کے القاب میں سے ایک مولود کعبہ{ یعنی جس کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی} ہے۔ اسی لئے شیعہ تیرہ رجب کو جشن مولود کعبہ مناتے ہیں ۔

اسی طرح ہم ائمہ ؑ کی ولادت کے ساتھ ان کی شہادت مناتے ہیں اور ان پر آنے والے مصائب کو تذکرہ کر کے روتے ہیں ۔لہذا ہم ان کے بشر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔

البتہ ائمہ اہل بیت ؑ اور دوسروں میں فرق یہ ہے کہ وہ چونکہ ممتاز اور پاک بندے ہیں ، خدائے تعالیٰ نے ان کو اپنے مخصوص بندوں میں سے قرار دیا ہے اور ان کو ولایت کا بلند مقام، عزت اور غیر معمولی شخصیت عطا کی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات گرامی معرفت ،عبادت علم، زہد و تقویٰ، بزرگی اور پاکیزگی وغیرہ میں انسانی فضائل کے بلند ترین مدارج پر فائز ہیں اور تمام اچھی خصوصیات کے اس طرح مالک ہیں کہ کوئی دوسرا انسان اس میں ان کے برابر نہیں ہے ۔

لہذا ائمہ اہل بیتؑ مافوق بشر کوئی مخلوق نہیں جس طرح سے نبی انسان اور بشر ہیں امام بھی ایسا ہی ہیں ۔ لیکن کمالات اور فضائل میں ائمہ انبیاء ؑ کی طرح بشر مافوق ہیں یعنی ان کمالات اور فضائل میں یہ سب سے آگے ہیں ، کوئی اس اعتبار سے ان کے مقام و منزلت پر نہیں ہے اور حقیقی فضیلت بھی یہی ہے ۔لہذا انہیں بشری امور سے اونچا دکھانے کی کوشش کرنا، فضیلت کا معیار نہیں ہے مثلا انہیں جسمانی خصوصیات اور جسم سے مربوط امور سے ما وریٰ فرض کرنا ، ان کی ولادت کا منکر ہونا ۔ کیونکہ ممکن ہے دوسرے بہت سے مخلوقات بھی ان امور میں ان کے ساتھ شریک ہو ۔لہذا اس ولادت ائمہ ؑ کے بجاے ظہور وغیرہ کا لفظ استعمال کرنا ائمہ ؑ کے بارے غلو آمیز سوچ والوں کی طرف سے رائج کردہ اصطلاحات ہیں ۔

ائمہؑ کو ان کے مقام سے گرانے والے لوگ :
تاریخ ائمہ اہل بیت ؑ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں بعض لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر افراط و تفریط سے دوچار رہے ہیں ۔بعض ان کے دشمنی میں اتنے آگے نکلے کہ نعوذ باللہ ان پر سب و شتم اور ان سے جنگ کرنے پر اتر آئے اور بعض ان کی محبت میں اور دوستی میں اتنے آگے نکلے کہ انہیں ان کے حقیقی مقام سے بلند دکھانے اور نعوذ باللہ انہیں خدا کے مقابل میں لاکھڑا کرنے کی کوشش کی گئ اور یہی دو متضاد عقیدے ائمہ ؑ کے واقعی مقام کی شناخت سے لوگوں کو دور رکھنے اور ان کی تعلیمات سے لوگوں کی محرومی کا باعث بنے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ائمہ اہل بیت ؑ لوگوں کو افراط و تفریط سے دور رہنے کی ہدایت کی ۔ ذیل میں ان کوششوں میں سے چند ایک قابل ملاحظہ ہے ۔

حضور پاک ﷺ نے امام علی ؑ کے بارے میں فرمایا:

يَا عَلِيُ‏ إِنَ‏ فِيكَ‏ مَثَلًا مِنْ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِنَّ الْيَهُودَ أَبْغَضُوهُ حَتَّى بَهَتُوهُ وَ إِنَّ النَّصَارَى أَحَبُّوهُ حَتَّى جَعَلُوهُ إِلَهاً وَ يَهْلِكُ فِيكَ رَجُلَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ وَ مُبْغِضٌ مُفْتَرٍ[5]۔

اے علی! آپ جناب عیسی ابن مریم کی طرح ہیں کیونکہ یہودیوں نے ان سے دشمنی کی اور ان پر الزام لگایا اور عیسائیوں نے ان سے اس حد تک محبت کی یہاں تک کہ انہیں مقام الوہیت تک لے گئے ۔ اور تمہارے بارے میں دو قسم کے لوگ گمراہ ہوں گے، محبت میں زیادہ روی کرنے والے اور دشمنی کرنے والے ۔

يَا عَلِيُ‏، إِنَ‏ فِيكَ‏ مَثَلًا مِنْ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، أَحَبَّهُ قَوْمٌ فَأَفْرَطُوا فِي حُبِّهِ فَهَلَكُوا فِيهِ، وَ أَبْغَضَهُ قَوْمٌ فَأَفْرَطُوا فِي بُغْضِهِ فَهَلَكُوا فِيهِ، وَ اقْتَصَدَ فِيهِ قَوْمٌ فَنَجَوْا[6].

دوسرے نقل میں ہے : آپ جناب عیسی ابن مریمؑ کی طرح ہیں ایک گروہ نے محبت میں زیادہ روی کی اور ہلاک ہوگیا اور ایک گروہ نے دشمنی میں زیادہ روی کی اور ہلاک ہوگیا اور جو افراط و تفریط سے دور رہا اس گروہ نے وہ نجات پائی۔

جیساکہ مولی ؑ خود ہی فرماتے تھے ۔ هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌ‏ غَالٍ‏إ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ[7]، میرے بارے میں دو قسم کے لوگ گمراہ ہوئے ایک محبت میں زیادہ روی کرنے والے دوسرا دشمنی کرنے والے ۔

امیر المئومنین ؑاپنے بارے میں غلو آمیز عقیدہ رکھنے والوں کی مذمت میں فرماتے ہیں ۔

اللَّهُمَّ إِنِّي بَرِي‏ءٌ مِنَ الْغُلَاةِ كَبَرَاءَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنَ النَّصَارَى، اللَّهُمَّ اخْذُلْهُمْ أَبَداً، وَ لَا تَنْصُرْ مِنْهُمْ أَحَداً[8].

اے اللہ !جس طرح سے جناب عیسیٰ ابن مریم ؑ نے {اپنے والے میں الوہیت کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے } نصاریٰ سے اظہار بیزاری کی ہے میں بھی غالیوں سے {جناب عیسیٰؑ کی طرح میرے بارے میں غلو کرنے والوں سے } اظہار بیزاری کرتا ہوں۔ اے اللہ ! تو انہیں ذلیل کردے اور ان کی نصرت نہ کرے ۔

امام سجادؑ سے اس سلسلے میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

وَ إِنَّا عَلَى سُنَّةٍ مِنْ ذَلِكَ إِنَّ قَوْماً مِنْ شِيعَتِنَا سَيُحِبُّونَا حَتَّى يَقُولُوا فِينَا مَا قَالَتِ الْيَهُودُ فِي عُزَيْرٍ وَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَلَا هُمْ مِنَّا وَ لَا نَحْنُ مِنْهُمْ[9].

جناب عیسی ؑ کی مانند ہمارے بارے میں بھی ہوگا ۔ شیعوں کا ایک گروہ ہم سے محبت میں ایسی باتیں کہیں گے جو یہود نے جناب عزیز ؑ اور نصاریٰ نے جناب عیسی ٰ کے بارے میں کہا ۔لہذا { ہماری محبت میں ہمیں یہود و نصاری ٰ کی مانند مقام عبودیت سے الوہیت اور ربوبیت کی منزل تک لے جانے والے } ہم میں سے نہیں اور ہمارا بھی ان سے کوئی تعلق نہیں ۔

امام صادق ؑ اس قسم کے لوگو ں میں سے خاص کر محبت میں زیادہ روی کرنے والوں کی پہچان کے سلسلے میں بیان فرماتے ہیں ۔

احْذَرُوا عَلَى شَبَابِكُمْ الْغُلَاةَ لَا يُفْسِدُونَهُمْ‏، فَإِنَّ الْغُلَاةَ شَرُّ خَلْقِ اللَّهِ، يُصَغِّرُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ، وَ يَدَّعُونَ الرُّبُوبِيَّةَ لِعِبَادِ اللَّهِ، وَ اللَّهِ إِنَّ الْغُلَاةَ شَرٌّ مِنَ الْيَهُودِ وَ النَّصارى‏ وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا.ثُمَّ قَالَ (عَلَيْهِ السَّلَامُ): إِلَيْنَا يَرْجِعُ الْغَالِي فَلَا نَقْبَلُهُ، وَ بِنَا يَلْحَقُ الْمُقَصِّرُ فَنَقْبَلُهُ. فَقِيلَ لَهُ:كَيْفَ ذَلِكَ، يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ: لِأَنَّ الْغَالِيَ قَدِ اعْتَادَ تَرْكَ الصَّلَاةِ وَ الزَّكَاةِ وَ الصِّيَامِ وَ الْحَجِّ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَرْكِ عَادَتِهِ، وَ عَلَى الرُّجُوعِ إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ (عَزَّ وَ جَلَّ) أَبَداً، وَ إِنَّ الْمُقَصِّرُ إِذَا عَرَفَ عَمِلَ وَ أَطَاعَ[10].

اپنے جوانوں کو غالیوں سے دور رکھنا کہ وہ انہیں خراب نہ کر دے ۔ کیونکہ غالی بدترین مخلوق ہے وہ اللہ کی عظمت کو گھٹا تے ہیں اور بندے کو ربوبیت کی منزل تک لے جاتے ہیں اللہ کی قسم غالی یہود و نصاریٰ ، مجوس اور اللہ کے بارے میں شرک کرنے والے سے بھی بدترین ہے ۔ پھر فرمایا: ہماری پاس غالی آتے ہیں ہم انہیں واپس کرتے ہیں ۔لیکن ہمارے پاس مقصر آتے ہیں تو ہم انہیں آنے دیتے ہیں ۔ راوی کہتا ہے مولی ایسا کیوں ؟ امام نے جواب دیا اس لئے کہ غالی نماز، زکات ، روزہ اور حج وغیرہ کو ترک کرنے کے عادی ہے وہ عادت کی وجہ سے اسے دوبارہ انجام نہیں دے سکتا اور اللہ کی اطاعت کی طرف پھر واپس نہیں آسکتا ۔ لیکن مقصر ایسا نہیں ہے جب اسے حقیقت کا علم ہو تو اسے انجام دیتا ہے اس کی اطاعت کرتا ہے ۔

امام صادقؑ نے ان لوگوں کے عقیدے کی وضاحت اور اپنے بارے میں غلو آمیز عقیدہ رکھنے والوں کی مذمت میں فرماتے ہیں ۔

لَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَالَ فِينَا مَا لَا نَقُولُهُ فِي أَنْفُسِنَا، وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ‏ أَزَالَنَا عَنِ الْعُبُودِيَّةِ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَنَا وَ إِلَيْهِ مَآبُنَا وَ مَعَادُنَا وَ بِيَدِهِ نَوَاصِينَا[11].

اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ہمارے بارے میں ایسی بات کرے جو ہم اپنے بارے میں نہیں کرتے ۔اللہ لعنت کرے اس پر جو ہمیں مقام عبودیت سے گرا دیتا ہے اس اللہ کا عبد اور بندہ ہونےسے جس نے ہمیں خلق کیا اور جس کی طرف ہماری بازگشت ہے جس کے قبضہ قدرت میں امور اور ہماری جان ہے ۔

جب مغیرہ بن سعید جیسے غالیوں کی جانب سے بعض غلوآمیز باتوں کو ائمہ کی طرف منسوب کر کے ان کی احادیث کے نام پر ان کے بارے میں غلو آمیز باتوں کی نشر کی وجہ سے بعض شیعہ پریشان ہوئے تو امام صادق ؑ نے اس قسم کی جعلی احادیث سے مقابلہ کرنے اور شیعوں کو اس قسم کے گمراہی سے بچانے کے لئے فرمایا :

لَا تَقْبَلُوا عَلَيْنَا حَدِيثاً إِلَّا مَا وَافَقَ الْقُرْآنَ وَ السُّنَّةَ أَوْ تَجِدُونَ مَعَهُ شَاهِداً مِنْ أَحَادِيثِنَا الْمُتَقَدِّمَةِ، فَإِنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ لَعَنَهُ اللَّهُ دَسَّ فِي كُتُبِ أَصْحَابِ أَبِي أَحَادِيثَ لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا أَبِي، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تَقْبَلُوا عَلَيْنَا مَا خَالَفَ قَوْلَ رَبِّنَا تَعَالَى وَ سُنَّةَ نَبِيِّنَا (ص) فَإِنَّا إِذَا حَدَّثْنَا قُلْنَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص)[12].

ہمارے بارے میں کسی بات کو قبول نہ کرو جب تک وہ قرآن اور سنت کے مطابق نہ ہو ، اسی طرح جب تک{ مغیرہ جیسے لوگوں کی دست اندازی سے } پہلے والی ہماری احادیث میں اس بات شاید نہ ہو اسے قبول نہ کرو۔ کیونکہ مغیرہ بن سعید نے {اللہ کی لعنت ہو اس پر }نے میرے والد گرامی کے بعض اصحاب کی کتابوں میں ہیر پھیر کے ذریعے بعض باتوں کو اس میں شامل کیا ہے جسے میرے والد نے نہیں فرمایا[13]۔ پس اللہ سے ڈرو اور ہمارے بارے میں ایسی باتوں اور احادیث کو قبول نہ کرو جو ہمارے عظیم رب کے کلام اور ہمارے نبی ﷺ کی سنت کے خلاف ہو ۔کیونکہ جب ہم کوئی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو وہ اللہ اور ان کے رسول ﷺ کا فرمان ہی ہوتا ہے ۔

جیساکہ ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ غالی اور انحرافی فکر والے ائمہ ؑ کو ان کے حقیقی مقام یعنی مقام عبودیت سے ہٹا کر انہیں اللہ کی مخصوص صفات سے متصف کرتے جبکہ ائمہ اپنے کو اللہ کا خاص عبد اور بندہ سمجھتے اور اللہ کا عبد ہونے پر فخر کرتے۔ جیساکہ امام باقرؑ نقل کرتے ہیں کہ امیرالمئومنینؑ کی دعاوں میں سے ایک یہ ورد تھی۔:

كَانَ مِنْ دُعَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ص إِلَهِي كَفَى‏ بِي‏ عِزّاً أَنْ أَكُونَ لَكَ عَبْداً وَ كَفَى بِي فَخْراً أَنْ تَكُونَ لِي رِبّاً إِلَهِي أَنْتَ لِي كَمَا أُحِبُّ وَفِّقْنِي لِمَا تُحِبُّ[14].

اے اللہ ! میری عزت کے لئے یہی کافی ہے کہ میں تیرا عبد ہوں اور میرے فخر کے لئے یہی کافی ہے کہ تو میرا رب ہے ۔ اے اللہ! تو ویسا ہے جیسا میں چاہتا ہوں اور مجھے بھی ویسا بنا جیسا تو چاہتا ہے ۔

مسجد کوفہ کے اعمال میں امیر المئومنین ؑ کی یہ مناجات مشہور ہے ۔

مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ الْمَوْلَى وَ أَنَا الْعَبْدُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْعَبْدَ إِلَّا الْمَوْلَى مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ الْمَالِكُ وَ أَنَا الْمَمْلُوكُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَمْلُوكَ إِلَّا الْمَالِكُ….مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ الْخَالِقُ وَ أَنَا الْمَخْلُوقُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَخْلُوقَ إِلَّا الْخَالِقُ .. مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ‏ الرَّازِقُ‏ وَ أَنَا الْمَرْزُوقُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَرْزُوقَ إِلَّا الرَّازِقُ…مَوْلَايَ يَا مَوْلَايَ أَنْتَ‏ الرَّبُ‏ وَ أَنَا الْمَرْبُوب هَلْ يَرْحَمُ الْمَرْبُوب إِلَّا الرَّبُ[15]۔

ائمہ ؑ سے منقول دعاوں میں ہے :

وَ أَنْتَ الْخَالِقُ وَ أَنَا الْمَخْلُوقُ وَ أَنْتَ الرَّازِقُ وَ أَنَا الْمَرْزُوقُ وَ أَنْتَ‏ الرَّبُ‏ وَ أَنَا الْمَرْبُوبُ وَ أَنْتَ الْقَوِيُّ وَ أَنَا الضَّعِيفُ إِلَيْك‏[16].

وَ أَنْتَ الرَّبُّ وَ نَحْنُ الْمَرْبُوبُونَ وَ أَنْتَ الْخَالِقُ وَ نَحْنُ الْمَخْلُوقُونَ وَ أَنْتَ الرَّازِقُ وَ نَحْنُ الْمَرْزُوقُون‏[17].

لہذا اس قسم کے کلمات اور ائمہ کی سیرت اس پر بہترین شاہد ہے کہ ائمہ عبودیت کو اپنی عزت اور اللہ کی ربوبیت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ۔ لیکن بعض لوگ ان کے دور میں ہی انہیں مقام ربوبیت ، رازقیت اور خالقیت کا حامل سمجھتے اور ائمہ نے اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی مذمت فرمائی اور اپنے بارے میں خاص کر قرآن و سنت مخالف باتوں سے اجتناب کرنے کی خصوصی وصیت کی ۔جیساکہ ائمہ ؑ کے بیان کردہ معیار کی رو سے ان کے بارے میں مقام ربوبیت ، رازقیت اور خالقیت وغیرہ جیسی الوہی صفات کے قائل ہونا واضح قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے ہم ذیل میں اس قسم کی چند آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

1: يا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ‏ الَّذي خَلَقَكُمْ وَ الَّذينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ{بقرہ ،آیت 22}

اے لوگو!اپنے پروردگار {رب}کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (خطرات سے) بچاؤ کرو۔

2: أَمَّنْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَ مَنْ يَرْزُقُكُمْ‏ مِنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ أَ إِلهٌ مَعَ اللَّهِ قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقينَ{ سورہ نمل ،آیت 64}

کون خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر اسے دہراتاہے اور کون تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ کہدیجئے: اپنی دلیل پیش کرو اگر تم لوگ سچے ہو۔

3: للَّهُ لَطيفٌ بِعِبادِهِ يَرْزُقُ‏ مَنْ يَشاءُ وَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزيزُ (شوری : 19)

اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہی بڑا طاقت والا، بڑا غالب آنے والا ہے۔

4: ذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ خالِقُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فَاعْبُدُوهُ وَ هُوَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَكيلٌ(الأنعام 102)

وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں -وہ ہر شے کا خالق ہے اسی کی عبادت کرو .وہی ہر شے کا نگہبان ہے

لہذا ان آیات کا واضح مطلب یہ ہے کہ رازق ،خالق اور رب ہونا اللہ کی صفات میں سے ہے ان کو دوسروں کی طرف نسبت دینا قرآنی آیات کی رو سے قابل مذمت اور قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے اور ائمہ اہل بیت ؑ نے اپنے پیروکاروں کو قرآنی تعلیمات کے خلاف باتیں ان سے منسوب کی جانے کی صورت میں ایسی باتوں کو ٹھکرانے کا حکم دیا ہے ۔

ائمہؑ کی معرفت اور ان سے وابستگی کے تقاضے:
بعض نے ائمہ ؑ کی معرفت ، ان سے محبت اور ان سے وابستگی کا معنی دینی دستورات سے رہائی کی صورت میں کرنا چاہا اور شیعہ یا ان مولائی ہونے کا مطلب اس چیز کو قرار دی کہ آگر ان سے وابستہ رہے ان کی ولایت اور محبت دل میں ہو تو یہی نجات کے لئے کافی ہے ۔لہذا اس قسم کی تفسیروں کے ذریعے لوگوں کو ائمہ ؑ کی تعلیمات سے دور رکھا گیا ۔ یہاں بھی ائمہ ؑ نے اپنے شیعو ں کو اس قسم کی گمراہی سے نجات دینے کی کوشش کی ۔

امام صادق ؑ سے اس قسم کی ذہنیت کے بیان میں نقل ہوا ہے :

قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: حَدِيثٌ رُوِيَ لَنَا أَنَّكَ قُلْتَ: إِذَا عَرَفْتَ فَاعْمَلْ مَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: «قَدْ قُلْتُ ذلِكَ». قَالَ: قُلْتُ: وَ إِنْ زَنَوْا، أَوْ سَرَقُوا، أَوْ شَرِبُوا الْخَمْرَ؟ فَقَالَ لِي: « «إِنَّا لِلَّهِ‏ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ»، وَ اللَّهِ مَا أَنْصَفُونَا أَنْ نَكُونَ أُخِذْنَا بِالْعَمَلِ وَ وُضِعَ عَنْهُمْ، إِنَّمَا قُلْتُ: إِذَا عَرَفْتَ فَاعْمَلْ مَا شِئْتَ مِنْ قَلِيلِ‏ الْخَيْرِ وَ كَثِيرِهِ؛ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْكَ»[18].

راوی امام سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ آپ نے فرمایا ہے ؟ کہ اگر ہماری ولایت کی معرفت حاصل ہو تو جو کچھ کرنا ہے تو کرئے ؟ امام نے فرمایا : جی میں نے ایسا کہا ہے واری پوچھتا ہے کہ اگر وہ معرفت کے بعد زنا کرے چوری کرے شراب پیے ؟ امام نے فرمایا : «إِنَّا لِلَّهِ‏ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ» اللہ کی قسم ہمارے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا کہ ہم خود سے تو عمل کے بارے میں سوال ہو اور انہیں اس سلسلے میں چھوٹ حاصل ہو ۔ میں نے کہا تھا جب معرفت حاصل کرے تو عمل تھوڑا بھی ہو اس سے قبول کیا جائے گا ۔

یعنی معرفت اعمال کے قبولی کا سبب ہے ولایت کی معرفت کے بغیر عمل قبول نہیں ہوگا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معرفت ہو تو عمل کی ضرورت نہیں ۔کیونکہ اس قسم کی سوچ واضح قرآنی اور ائمہ ؑ کی تعلیمات اور سیرت کے خلاف ہے ۔

ہم ذیل میں ائمہ ؑ کی اس سلسلے کی چند کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے : يَا جَابِرُ أَ يَكْتَفِي مَنِ اتَّخَذَ التَّشَيُّعَ- أَنْ يَقُولَ بِحُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَوَ اللَّهِ مَا شِيعَتُنَا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ…… يَا جَابِرُ لَا تَذْهَبَنَّ بِكَ الْمَذَاهِبُ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ أُحِبُّ عَلِيّاً صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ أَتَوَلَّاهُ فَلَوْ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ ص وَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ ثُمَّ لَا يَتَّبِعُ سِيرَتَهُ وَ لَا يَعْمَلُ بِسُنَّتِهِ مَا نَفَعَهُ حُبُّهُ إِيَّاهُ شَيْئاً ….. مَنْ كَانَ لِلَّهِ مُطِيعاً فَهُوَ لَنَا وَلِيٌّ وَ مَنْ كَانَ لِلَّهِ عَاصِياً فَهُوَ لَنَا عَدُوٌّ وَ لَا تُنَالُ‏ وَلَايَتُنَا إِلَّا بِالْعَمَلِ وَ الْوَرَعِ.[19]

اے جابر ! جس نے تشیع کا انتخاب کا ہے ، کیا اس کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اہل بیتؑ کے محب ہونے کا ہی کہے ؟ اللہ کی قسم ہمارے شیعہ وہی ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور اللہ کی اطاعت کرتا ہو۔۔۔ اے جابر ! مختلف گروہ اور فرقے تمہیں یہ کہہ کر گمراہ نہ کرے کہ میں علیؑ سے محبت کرتا ہوں میں مولائی ہوں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں رسول اللہﷺ سے محبت کرتا ہوں جبکہ رسول اللہﷺ علیؑ سے افضل ہیں اور وہ اسی پر اکتفا کرے اور رسول اللہﷺ کی سیرت اور سنت پر عمل نہ کرے تو صرف ان کی محبت انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔ اے جابر! جو اللہ کی اطاعت کرتا ہو وہ ہمارے چاہنے والا ہے اور جو خدا کی نافرمانی کرتا وہ ہمارے دشمن ہے ۔ہماری ولایت صرف نیک اعمال اور پرہیزگاری کے نتیجے میں ملے گی ۔

ایک اور جگہ پر آپ نے فرمایا: يَا جَابِرُ بَلِّغْ‏ شِيعَتِي‏ مِنِّي السَّلَامَ وَ أَعْلِمْهُمْ أَنَّهُ لَا قَرَابَةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَا يُتَقَرَّبُ إِلَيْهِ إِلَّا بِالطَّاعَةِ يَا جَابِرُ مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ وَ أَحَبَّنَا فَهُوَ وَلِيُّنَا وَ مَنْ عَصَى اللَّهَ لَمْ يَنْفَعْهُ حُبُّنَا [20].

اے جابر!میرے شیعوں کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ اللہ اور ہمارے درمیان کو قرابت داری نہیں ہے اور اللہ سے صرف اطاعت کے ساتھ تقرب حاصل کرسکتا ہے ۔ اے جابر! جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور ہم سے محبت بھی کرتا ہے تو یہی ہمارے دوست اور اہل ولایت ہیں ۔

امام صادقؑ سے منقول ہے : يَا ابْنَ جُنْدَبٍ بَلِّغْ مَعَاشِرَ شِيعَتِنَا.. لَا تَذْهَبَنَّ بِكُمُ الْمَذَاهِبُ فَوَ اللَّهِ لَا تُنَالُ‏ وَلَايَتُنَا إِلَّا بِالْوَرَعِ وَ الِاجْتِهَادِ [21]

اے جندب !ہمارے شیعوں سے کہنا: تمہیں مختلف لوگ ادھر ادھر بھکاکے نہ لے جاے۔ اللہ کی قسم ہماری ولایت پرہیزگاری اور کوشش کے بغیر نہیں ملے گی ۔

امام رضاؑ سے اس سلسلے میں نقل ہوا ہے :

لَا تَدَعُوا الْعَمَلَ الصَّالِحَ وَ الِاجْتِهَادَ فِي الْعِبَادَةِ اتِّكَالًا عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ ع وَ لَا تَدَعُوا حُبَ‏ آلِ‏ مُحَمَّدٍ ع وَ التَّسْلِيمَ لِأَمْرِهِمُ اتِّكَالًا عَلَى الْعِبَادَةِ فَإِنَّهُ لَا يُقْبَلُ أَحَدُهُمَا دُونَ الْآخَرِ[22].

عمل صالح اور عبادت میں سعی و کوشش کو آل محمدؑ سے محبت کی امید میں ترک نہ کرنا اور آل محمدؑ سے محبت اور ان کی اطاعت کو عبادت کی امید میں نہ چھوڑنا ۔کیونکہ اللہ تعالی ان میں سے ایک کو دوسرے کے بغیر قبول نہیں کرے گا ۔

لہذا ان واضح فرامین کی رو سے ائمہ ؑاہل بیت سے محبت ، ان کی ولایت پر ایمان اور ان سے وابستگی کا مطلب دینی دستورات پر عمل پیرا ہونا ہے ۔

اس جہت سے ائمہ ؑ کو غیر بشری مخلوق کے طور پر پیش کرنے والے ، ان سے دشمنی کرنے والے اور ان کی معرفت اور ولایت کے ذریعے بے عملی اور دینی دستورات کے سلسلے میں بے توجہی سے کام لینے والے تینوں گروہ ، ائمہ ؑ کو ان کے حقیقی مقام اور منزلت نہ دینے کے اعتبار سے ایک ہی لائن میں کھڑے ہیں۔ اور یہی افراط و تفریط ائمہ ؑ کی سیرت اور تعلیمات سے لوگوں کو دور رکھنے کا موجب بنے ۔

اللہ ہمیں ائمہ ؑکے بارے میں افراط و تفریط سے دور رہنے اور ان کی سیرت و تعلیمات کے مطابق چلنے کی توفیق عنایت فرما.

آمین یا رب العالمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top